جائے وقوعہ پر محض موجودگی ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کے اطلاق کے لیے کافی نہیں: سپریم کورٹ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ کے تحت درج ایک فوجداری مقدمے کو منسوخ کرتے ہوئے واضح کیا کہ محض جائے وقوعہ پر موجودگی کسی شخص کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کے لیے کافی بنیاد نہیں بن سکتی۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اگر الزامات مبہم ہوں اور ایف آئی آر یا چارج شیٹ میں ملزم کے مخصوص کردار کی نشاندہی نہ ہو تو ایسے حالات میں مقدمہ چلانا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔

عدالت نے اس معاملے میں اس اصول پر زور دیا کہ انسدادِ مظالم ایکٹ کا اطلاق خود بخود نہیں ہو جاتا۔ کسی شخص کے خلاف اس قانون کے تحت کارروائی کے لیے یہ دکھانا ضروری ہے کہ مبینہ فعل واقعی ذات کی بنیاد پر کیا گیا ہو اور اس کی واضح تفصیل ریکارڈ پر موجود ہو۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ صرف اس بنیاد پر کہ شکایت کنندہ درج فہرست ذات یا درج فہرست قبائل سے تعلق رکھتا ہے، قانون لاگو نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ ملزم کو شکایت کنندہ کی ذات کا علم تھا، تب بھی محض علم ہونا کافی نہیں۔ عدالت کے مطابق ایف آئی آر اور چارج شیٹ میں ایسی کوئی ٹھوس بات موجود نہیں تھی جس سے یہ ثابت ہو کہ ملزم نے ذات پر مبنی گالی دی یا دانستہ طور پر تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا۔ الزامات عمومی نوعیت کے تھے، جن کی بنیاد پر انسدادِ مظالم ایکٹ کے تحت کارروائی آگے بڑھانا مناسب نہیں تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ فوجداری قانون میں ہر ملزم کے کردار کا الگ الگ تعین ضروری ہے۔ محض یہ کہنا کہ کوئی شخص موقع پر موجود تھا، اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس نے جرم میں شرکت کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اجتماعی الزامات یا غیر واضح بیانات قانون کے سخت اطلاق کے لیے ناکافی ہوتے ہیں۔

یہ اپیل پٹنہ ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف دائر کی گئی تھی جس میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کیا گیا تھا۔ اس سے قبل ایک ایف آئی آر کے ذریعے آنگن واڑی مرکز میں ذات پات کی بنیاد پر بدسلوکی اور مارپیٹ کا الزام لگایا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *