جنسی استحصال کے ملزم چیتنیانند سرسوتی کی مشکلات میں اضافہ، جعلی ڈپلومیٹک نمبر پلیٹ کیس میں 14 روزہ عدالتی حراست

جنسی استحصال کے سنگین الزامات میں گرفتار چیتنیانند سرسوتی کی قانونی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے انہیں جعلی ڈپلومیٹک نمبر پلیٹ استعمال کرنے کے علیحدہ مقدمے میں 14 روزہ عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پولیس کی ایک روزہ حراست مکمل ہوئی اور تفتیشی اہل کاروں نے ابتدائی شواہد عدالت کے روبرو پیش کیے۔

پولیس کے مطابق چیتنیانند اپنی گاڑی پر جعلی ڈپلومیٹک نمبر پلیٹ نصب کر کے سفر کر رہے تھے، جس کا مقصد خود کو بااثر ظاہر کرنا اور ممکنہ قانونی کارروائی سے بچنا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حرکت دانستہ طور پر کی گئی اور اس سے قانون کی صریح خلاف ورزی ہوئی۔ عدالت نے اسے سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی کہ تمام متعلقہ ریکارڈ اور شواہد بروقت جمع کرائے جائیں۔

چیتنیانند سرسوتی اس سے قبل 16 طالبات کے جنسی استحصال سے متعلق مقدمے میں گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ وہ دہلی کے ایک تعلیمی ادارے میں چیئرمین رہے ہیں، جہاں ان طالبات نے ان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اپنی مذہبی شناخت اور عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور جنسی استحصال کیا۔ الزامات سامنے آنے کے بعد ستمبر میں انہیں آگرہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ وہ طویل عرصے سے اپنی گاڑی پر جعلی ڈپلومیٹک نمبر پلیٹ استعمال کر رہے تھے، جس سے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہوئی بلکہ انہوں نے خود کو بااثر ثابت کرنے کی کوشش بھی کی۔ پولیس نے اسی بنیاد پر ان کے خلاف دوسرا مقدمہ درج کیا۔

اس وقت چیتنیانند سرسوتی کے خلاف دو مقدمات بیک وقت زیر سماعت ہیں—ایک جنسی استحصال سے متعلق، دوسرا جعلی نمبر پلیٹ کے استعمال کا۔ آئندہ سماعتوں میں دونوں معاملات میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *