’ہندوستان کی خارجہ پالیسی پوری طرح بے نقاب‘، جے رام رمیش کا مرکز پر شدید حملہ
نئی دہلی: مغربی ایشیا میں بڑھتے تناؤ کے پس منظر میں کانگریس نے اتوار کے روز مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملک کی خارجہ حکمت عملی پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کی مذمت اور بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت سے فعال مداخلت کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ملک وزیر اعظم کی خارجہ پالیسی کے طریقہ کار اور اس کے نتائج دونوں کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔
سابق مرکزی وزیر جے رام رمیش نے متعدد معاملات کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ سب حکومت کی کمزور سفارتی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہے وزیر اعظم اور ان کے قریبی ساتھی کتنی ہی وضاحتیں پیش کریں، حقیقت یہ ہے کہ خود ساختہ عالمی رہنما کے دعووں کے باوجود ہندوستان کی خارجہ پالیسی پوری طرح آشکار ہو چکی ہے۔
جے رام رمیش نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ مسلسل پاکستان کے ساتھ قربت برقرار رکھے ہوئے ہیں اور ایسے شخص کی تعریف کر رہے ہیں جس کے اشتعال انگیز بیانات نے بائیس اپریل 2025 کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی بنیاد رکھی تھی۔ ان کے مطابق امریکہ نے افغانستان کے معاملے میں بھی پاکستان کی کھل کر حمایت کی۔
انہوں نے آپریشن سندور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر متعدد مواقع پر یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے دس مئی 2025 کو ہندوستانی برآمدات پر محصول عائد کرنے کی دھمکی دے کر آپریشن کو روکنے میں کردار ادا کیا، مگر وزیر اعظم اس دعوے پر خاموش ہیں۔ کانگریس نے ہندوستان۔امریکہ تجارتی معاہدے کو بھی یکطرفہ قرار دیا۔
جے رام رمیش نے وزیر اعظم کے حالیہ اسرائیل دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے حوالے سے حکومت کا ردعمل ہندوستان کے اصولوں، اقدار اور قومی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا۔