غازی آباد کی پانچ منزلہ عمارت میں بھیانک آگ، 150 افراد محصور، کئی زخمی
نئی دہلی: ہولی کی رات غازی آباد کے کھوڑا علاقے میں ایک بڑی آگ لگنے کے واقعے نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی۔ منگل کی رات ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت کے گراؤنڈ فلور پر اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت گھنے دھوئیں سے بھر گئی اور اندر موجود لوگ گھبراہٹ کا شکار ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد عمارت میں رہنے والے درجنوں خاندان شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہو گئے۔
یہ واقعہ بیر بل چوکی کے قریب گولڈن پیلس کے نزدیک واقع ایک رہائشی عمارت میں پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر سیڑھیوں کے پاس موجود الیکٹریکل پینل کے قریب لگی۔ آگ لگتے ہی دھواں تیزی کے ساتھ سیڑھیوں کے راستے اوپر کی منزلوں تک پھیل گیا جس کے باعث عمارت میں موجود لوگ نیچے اترنے سے قاصر ہو گئے۔
پانچ منزلہ اس عمارت میں تقریباً چالیس سے پینتالیس فلیٹ ہیں اور اس وقت اندر لگ بھگ 150 افراد موجود تھے۔ دھواں بھر جانے کے باعث بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھروں میں ہی پھنس گئے۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو گئی کہ کئی افراد نے کھڑکیوں اور بالکونیوں سے مدد کے لیے آوازیں دینا شروع کر دیں۔
فائر اسٹیشن ویشالی کو رات 11 بج کر 47 منٹ پر اس واقعے کی اطلاع موصول ہوئی۔ چیف فائر آفیسر راہل پال کے مطابق اطلاع ملتے ہی فوری طور پر تمام قریبی فائر اسٹیشنوں کو الرٹ کیا گیا اور کئی فائر ٹینڈرز کو موقع پر روانہ کر دیا گیا۔ کچھ ہی دیر میں تقریباً دس دمکل گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے فوری طور پر بچاؤ کارروائی شروع کی۔ عمارت میں دھوئیں کی شدت کو دیکھتے ہوئے فائر ٹینڈروں کی سیڑھیوں کو اوپر تک پھیلایا گیا اور ان کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقام تک منتقل کیا گیا۔ کئی افراد کو کھڑکیوں اور بالکونیوں کے راستے باہر نکالا گیا۔ اس دوران اہلکار سیڑھیوں کے پاس لگی آگ کو بجھانے کی کوشش بھی کرتے رہے تاکہ دھواں مزید نہ پھیل سکے۔
کافی دیر تک جاری رہنے والی اس کارروائی کے دوران تقریباً ڈیڑھ سو افراد کو بحفاظت عمارت سے باہر نکال لیا گیا۔ تاہم بیس سے بائیس افراد دھوئیں کی زد میں آ کر زخمی ہو گئے یا ان کی حالت خراب ہو گئی۔ متاثرین کو فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا علاج جاری ہے۔ دیگر کئی افراد کو موقع پر ہی ابتدائی طبی امداد دی گئی۔
اطلاع ملتے ہی پولیس اور مقامی انتظامیہ کے افسران بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور راحت و بچاؤ کے کاموں کا جائزہ لیا۔ کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔