آسام اسمبلی انتخاب سے قبل بی جے پی وزیر نندیتا گارلوسا نے ’کمل‘ چھوڑ تھاما ’ہاتھ‘
آسام کی سیاست میں انتخاب سے قبل بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ ریاستی حکومت کی وزیر نندیتا گارلوسا نے بی جے پی چھوڑ کر کانگریس کا دامن تھام لیا ہے۔ پارٹی کے بیان کے مطابق گارلوسا آئندہ اسمبلی انتخاب میں دیما ہساؤ ضلع کی ہافلونگ سیٹ سے کانگریس امیدوار کے طور پر میدان میں اتریں گی۔ آسام پردیش کانگریس کمیٹی (اے پی سی سی) کے جنرل سکریٹری نرمال لنگتھاسا کی موجودگی میں نندیتا گارلوسا کانگریس میں شامل ہوئیں۔ اس موقع پر کانگریس کے صوبائی جنرل سکریٹری نے کہا کہ ’’ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ نندیتا گارلوسا کانگریس پارٹی میں شامل ہو گئی ہیں۔ گزشتہ 5 برسوں سے وہ دیما ہساؤ کی آواز رہی ہیں اور وہ ہمیشہ اپنے نظریات اور اصولوں پر مضبوطی سے قائم رہی ہیں۔ بی جے پی میں انہیں اس کی قیمت چکانی پڑی، کیونکہ ہیمنتا بسوا سرما کی دلچسپی صرف قبائلیوں کی زمینیں بڑی کمپنیوں کو بیچنے میں ہے۔‘‘
Ahead of the #Assam Assembly elections, #BJP leader and state minister #NanditaGarlosa on Sunday joined the #Congress after being denied a ticket by the BJP.
She will now contest from the Haflong constituency in Dima Hasao district.
Read more https://t.co/rAU8bMyGP3
— IndiaToday (@IndiaToday) March 23, 2026
واضح رہے کہ نندیتا گارلوسا آسام حکومت میں کھیل اور نوجوانوں کی بہبود کی وزیر تھیں اور وہ موجودہ اسمبلی میں ہافلونگ سیٹ کی نمائندگی کر رہی تھیں۔ اس بار بی جے پی نے ان کی جگہ نئے چہرے روپالی لانگتھاسا کو ٹکٹ دیا، جس کے بعد گارلوسا نے بی جے پی چھوڑ دی۔ دراصل اتوار کے روز ہی وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے ہافلونگ جا کر نندیتا گارلوسا سے ان کے گھر پر ملاقات کی تھی، لیکن یہ میٹنگ بے نتیجہ رہی۔ وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے چند گھنٹوں بعد ہی انہوں نے کانگریس کا ’ہاتھ‘ تھام لیا۔ کانگریس نے پہلے اس سیٹ سے اپنے صوبائی جنرل سکریٹری نرمال لنگتھاسا کو امیدوار نامزد کیا تھا، لیکن انہوں نے عوامی مفاد میں اپنا ٹکٹ گارلوسا کو دینے پر رضامندی ظاہر کی۔
قابل ذکر ہے کہ 2016 سے اس شمال مشرقی ریاست میں اقتدار سے باہر کانگریس دوبارہ اقتدار میں آنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف ہے۔ موجودہ اسمبلی میں حکمراں بی جے پی کے 64 اراکین اسمبلی ہیں، جبکہ اس کے اتحادیوں میں آسام گن پریشد (اے جی پی) کے 9، یو پی پی ایل کے 7 اور بی پی ایف کے 3 اراکین اسمبلی شامل ہیں۔ اپوزیشن میں کانگریس کے 26، اے آئی یو ڈی ایف کے 15 اور مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم) کا ایک رکن اسمبلی ہے۔ اس کے علاوہ ایک آزاد رکن اسمبلی بھی ہے۔ واضح رہے کہ آسام کی 126 رکنی اسمبلی سیٹوں کے لیے 9 اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔