’بی جے پی حکومت نے اڈیشہ میں بھی جنگل راج قائم کر دیا‘، کانسٹیبل کی موب لنچنگ پر کانگریس فکرمند
اڈیشہ میں موب لنچنگ کے سبب ایک کانسٹیبل کی موت معاملہ نے بی جے پی حکومت کو ایک بار پھر کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد کانگریس نے اپنی فکرمندی ظاہر کی ہے اور بی جے پی حکومت کے ذریعہ اڈیشہ میں بھی ’جنگل راج‘ قائم کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس نے جمعرات (7 مئی) کو کانسٹیبل سومیہ رنجن کے ساتھ پیش آئے موب لنچنگ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اڈیشہ میں ریلوے پولیس کے کانسٹیبل سومیہ رنجن کو بھیڑ نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ کانسٹیبل سومیہ رنجن اپنے دوست کے ساتھ بائک سے جا رہے تھے، تبھی غنڈوں نے ان پر حملہ کیا۔ ان کے ہاتھ پیر باندھ دیے گئے اور بھیڑ کی شکل میں موجود غنڈوں نے انھیں تب تک مارا، جب تک ان کی موت نہیں ہو گئی۔‘‘
BJP का जंगलराज
ओडिशा में रेलवे पुलिस के कांस्टेबल सौम्य रंजन को भीड़ ने पीट-पीटकर मार डाला।
कांस्टेबल सौम्य रंजन अपने दोस्त के साथ बाइक से जा रहे थे, तभी गुंडों ने उनपर हमला किया।
उनके हाथ-पैर बांध दिए गए और भीड़ की शक्ल में मौजूद गुंडों ने उन्हें तब तक मारा, जब तक उनकी मौत… pic.twitter.com/R2Vijs3xvU
— Congress (@INCIndia) May 8, 2026
یہ تبصرہ کانگریس نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کیا ہے۔ پارٹی نے اس بات پر حیرانی ظاہر کی ہے کہ پولیس وہاں کھڑی تھی، لیکن تماشہ دیکھتی رہی۔ کانگریس لکھتی ہے کہ ’’اس دوران (جب واقعہ پیش آیا) پولیس بھی وہاں کھڑی رہی، اور تماشہ دیکھتی رہی۔ سومیہ رنجن جان کی بھیک مانگتے رہے، لیکن غنڈے پٹائی کرتے رہے۔‘‘ اس پوسٹ میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’یہ واقعہ سماج کے لیے بدنما داغ ہے، جس کی مہذب سماج میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کانگریس نے کہا ہے کہ ’’بی جے پی حکومت نے اڈیشہ میں بھی جنگل راج قائم کر دیا ہے۔ پورا سسٹم غنڈے، بدمعاشوں کے حساب سے چل رہا ہے۔ ایک وقت اڈیشہ میں امن و امان رہا کرتا تھا، آج یہ ریاست شرپسندی اور تشدد کی بھینٹ چڑھ چکی ہے۔‘‘ کانگریس نے آگے کہا کہ ’’بی جے پی نے اپنے فائدے کے لیے یہ پُرتشدد ماڈل لانچ کیا ہے، جس کا شکار اڈیشہ کے عام شہری ہو رہے ہیں۔ اس واقعہ کے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ حالانکہ ایسا ہوگا، اس کی امید نہیں۔ کیونکہ بھیڑ کی شکل میں جو غنڈے ہیں، انھیں بی جے پی حکومت کی حمایت حاصل ہے۔‘‘