مغربی ایشیا میں کشیدگی نے ہندوستانیوں کو کیا پریشان، 28 فروری سے اب تک 11.61 لاکھ افراد کی گھر واپسی
مغربی ایشا میں تقریباً 2 ماہ سے جاری کشیدگی کی وجہ سے متاثرہ ممالک کے ساتھ ساتھ تقریباً پوری دنیا مختلف بحرانوں کا شکار ہے۔ موجودہ صورتحال کا سب سے زیادہ اثر روزگار کے لیے بیرون ملک میں موجود غیر ملکی شہریوں پر پڑا ہے۔ کئی روز تک فضائی خدمات بند ہونے اور بحرانی حالات کا سامنا کرنے کے بعد ایسے لوگوں کی وطن واپسی شروع ہو گئی ہے جو مغربی ایشیا کے ممالک میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ گھر واپسی کا یہ سلسلہ تیزی کے ساتھ جاری ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان 28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے اب تک 11.61 لاکھ سے زائد شہری ہندوستان واپس آئے ہیں۔ وہیں عراق میں پھنسے 12 ملاح گزشتہ پیر کے روز ممبئی پہنچے۔ دراصل ہوائی خدمات متاثر ہونے سے عام لوگ تو پریشان ہیں ہی، آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی سے بحری جہاز بھی مشکل سے ہی ہندوستان آ پا رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 28 فروری کے بعد 9 ایل پی جی کنٹینر اور ایک خام تیل کا جہاز کشیدگی کا مرکز بنے آبنائے ہرمز کو حفاظت کے ساتھ پار کر کے ہندوستان پہنچا ہے۔
اس دوران وزارت خارجہ میں ایڈیشنل سکریٹری اسیم مہاجن نے منگل کے روز بین وزارتی بریفنگ میں اس سلسلے میں معلومات فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان خلیجی ممالک میں موجود اپنے تقریباً ایک کروڑ غیر مقیم ہندوستانیوں کی حفاطت کو ترجیح دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق کے ہوائی علاقے پھر سے کھلنے کے بعد 12 ملاحوں کی واپسی ممکن ہو پائی ہے۔
اسیم مہاجن نے بتایا کہ اس پورے معاملے میں بغداد واقع ہندوستانی سفارت خانے نے ان کی محفوظ روانگی یقینی بنانے میں اہم تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا ہوائی علاقہ جزوی طور سے کارگو اور چارٹرڈ پروازوں کے لیے کھلا ہے اور تہران واقع ہندوستانی سفات خانہ آرمینیا اور آذربائیجان کے راستے ہندوستانیوں کی واپسی میں مدد کررہا ہے۔
واضح رہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ ساتھ ایران اور عراق میں ہندوستانیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ان میں کچھ لوگ روزگار کے لیے مذکورہ ممالک میں مقیم ہیں جبکہ کچھ لوگ تعلیم حاصل کرنے کے لیے وہاں گئے ہیں۔ تعلیم اور روزگار کے متلاشی افراد کی تقریباً پورے سال آمد و روانگی کا سلسلہ جاری رہتا ہے مگر 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر یکطرفہ حملے کے بعد پورے مشرق وسطی میں کشیدگی پھیل گئی تھی جس کی وجہ سے ان ممالک کی فضائی خدمات روک دی گئی تھیں۔