ڈی جی ایس کی نئی میرین سیکورٹی ایڈوائزری جاری، خلیجی بحران کے درمیان حکومت کا بڑا فیصلہ
خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ سمندری واقعات کے پیش نظر حکومت ہند کی میرین ٹائم اتھارٹی نے ایک نئی سیکورٹی ایڈوائزری جاری کی ہے جس کا اہم مقصد ہزاروں ہندوستانی بحری جہازوں اور حساس آبی گزرگاہوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت کو پختہ بنانا ہے۔
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے تحت کام کرنے والے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ (ڈی جی ایس) نے ہندوستانی بحری جہازوں، جہاز مالکان، منیجروں اور میری ٹائم اسٹیک ہولڈروں کو خلیجی خطہ میں خاص طور پر تزویراتی لحاظ سے اہم آبنائے ہرمز کے ارد گرد کام کرتے وقت اعلیٰ ترین سطح پر چوکسی برتنے کی ہدایت کی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ نے واضح کیا ہے کہ اس بدلتے ہوئے سیکورٹی ماحول میں ہندوستانی بحری جہازوں کی حفاظت اور ان کی بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز سے کہا گیا ہے کہ وہ عملے کے ارکان کے ساتھ باقاعدگی سے رابطہ برقرار رکھیں اور ہندوستانی بحری جہازوں کے کسی بھی واقعے کی اطلاع بلا تاخیر ڈی جی ایس کمیونیکیشن سینٹر کو دیں۔
ایڈوائزری میں خاص طور پر بحری جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو سوشل میڈیا اور دیگر غیر سرکاری چینلز پر گردش کرنے والی جعلی (غیر مصدقہ) معلومات پر بھروسہ نہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ایڈوائزری میں وزارت خارجہ، بیرون ملک ہندوستانی مشنز اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ اور دیگر مجاز اتھارٹیوں کی طرف سے جاری اطلاعات پر مسلسل نظر رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔
⚠️ DGS Security Advisory – Gulf Region
In view of the heightened security situation in the Gulf Region, Indian seafarers, shipowners, managers, and maritime stakeholders are advised to exercise maximum vigilance and strictly follow all security advisories. The safety and welfare… pic.twitter.com/jUUDxlcpw8
— Directorate General of Shipping, Govt. of India (@dgshipping_IN) June 14, 2026
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہند خلیجی خطے کے واقعات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ملک کا اہم بحری کاروبار اور توانائی در آمد اسی علاقے سے ہو کر گزرتی ہے۔ اس خطے میں تقریباً 18 ہزار ہندوستانی شہری کام کررہے ہیں جن میں 13 ہندوستانی جھنڈے والے جہازوں پر 662 ہندوستانی کارکن شامل ہیں۔
وہیں تازہ ترین ایڈوائزری کا خاص مقصد حساس آبی علاقے میں کام کررہے ہندوستانی عملے کے درمیان تیاریوں کو مضبوط کرنا اور میری ٹائم سیکورٹی بیداری کو بڑھانا ہے۔ در اصل یہ ایڈوائزری ہندوستانی عملے کے ارکان کے ساتھ تجارتی جہازوں پر حال ہی میں ہوئے حملوں کے بعد جاری کی گئی ہے۔ ان میں عمان کے ساحل کے پاس ہوئی ایک مہلک واردات بھی شامل ہے جس میں 3 ملاح مارے گئے تھے۔ ٹینکر پر حملے کے بعد ملاح لاپتہ ہو گئے تھے۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ اس ٹینکر میں ایرانی تیل تھا اور اس نے امریکی فوج کی ہدایات کی خلاف ورزی کی تھی۔