’…اُس کا دل چاہے گا کہ پورا ملک اسی کی طرح جاہل، ناسمجھ اور بے رحم بنے‘، طلبا پر ظلم دیکھ کر آبدیدہ ہوئے نصیرالدین شاہ
نیٹ پیپر لیک معاملے میں شروع ہونے والے طلبا کے احتجاج اور پھر پارلیمنٹ مارچ اب ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ 20 جولائی کو ’چلو پارلیمنٹ‘ مارچ کے دوران مظاہرین اور طلبا کے ساتھ جس طرح مارپیٹ کی گئی اور انہیں جس طرح دوڑایا گیا، اس کے بعد حالات مزید سنگین ہو گئے ہیں۔ شبانہ اعظمی سے لے کر کنیکا سدانند اور پرکاش راج تک جہاں جنتر منتر پہنچے تھے، وہیں کئی دیگر مشہور ہستیاں بھی طلبا کی حمایت میں کھڑے دکھائی دیے۔ اب مایہ ناز اداکار نصیرالدین شاہ نے طلبا پر بربریت کے خلاف حکومت پر حملہ آور رخ اختیار کیا ہے۔ طلبا کے ساتھ ہوئی مارپیٹ اور لاٹھی چارج پر نصیرالدین شاہ نہ صرف غصے سے پھٹ پڑے، اپنی بات رکھتے ہوئے آبدیدہ بھی ہو گئے۔
Legendary actor Naseeruddin Shah shares a video, fuming about the way youth were beaten up yesterday in Delhi. He reminds the government, “Sab yaad rakha jayega”
Thank you sir for your voice and solidarity pic.twitter.com/pDmp2G4U3R
— Cockroach is Back (@Cockroachisback) July 21, 2026
76 سالہ اداکار نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بھیگی آنکھوں کے ساتھ ایک ویڈیو شیئر کی، جو دل کو چیر دینے والی ہے۔ یہ ویڈیو بعد مں دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی شیئر کی گئیں۔ نصیرالدین شاہ نے جنتر منتر پر ’چلو پارلیمنٹ‘ مارچ کے دوران ہوئی تشدد کی کارروائی پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے حملہ آوروں کو ’غنڈے‘ قرار دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبا کی حمایت کی۔
ویڈیو میں نصیرالدین کہتے نظر آ رہے ہیں ’’نمسکار، آداب۔ میں آپ سب سے دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر ایک جاہل اس ملک کی رہنمائی کرے، تو اس کا دل یہی چاہے گا کہ پورا ملک بھی اسی کی طرح جاہل، ناسمجھ، نااہل اور بے رحم بن جائے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’اداکاری کے دو الگ الگ کورس (نیشنل اسکول آف ڈراما اور پونے فلم انسٹی ٹیوٹ) مکمل کرنے کے باوجود میں نے اداکاری کے بارے میں سب سے زیادہ جو کچھ سیکھا، وہ ان بچوں سے سیکھا، جنہیں سکھانے کی میں نے کوشش کی ہے۔ میری پوری ہمدردی ان کے ساتھ ہے۔ میں ہر سانس کے ساتھ انہیں ہزاروں دعائیں دیتا ہوں اور ہر ٹیچرز ڈے پر انہیں سلام کرتا ہوں۔‘‘
نصیرالدین شاہ آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں ’’اس وقت میرا دل بھی بھرا ہوا ہے اور میں غصے سے کھول بھی رہا ہوں، یہ دیکھ کر کہ ہمارے بچوں کے ساتھ ان غنڈوں کے ہاتھوں کس طرح ظلم کیا جا رہا ہے، جو مجھے امریکہ کے ایجنٹوں کی یاد دلاتے ہیں، چہروں پر نقاب پہنے ہوئے، ہاتھوں میں ڈنڈے لیے ہوئے۔‘‘ بربریت کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’کبھی اپنے بچوں کے بارے میں بھی سوچا کرو اور یہ بھی سوچو کہ تمہارا انجام بھی ایک دن ضرور تمہارے سامنے آئے گا۔‘‘ پھر وہ مظاہرین نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہیں ’’ان تمام بچوں سے میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمت نہ ہاریں۔ بہت سے لوگوں کی ہمدردی آپ کے ساتھ ہے۔ بہت سے لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ لڑتے رہیں۔ مجھے ہمارے ملک کی نوجوان نسل سے امید رہی ہے اور اب وہ امید مزید روشن ہو گئی ہے۔ آپ لوگ اپنی لڑائی لڑتے رہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘